: صنعت تلمیح
جب شعر میں کسی پرانے واقعےیا روایت کی طرف اشارہ کیا جائےـ
مثال۱ : کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
(بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا ( غالب
اس شعر میں نمرود کی طرف اشارہ ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا ۔
مثال ۲۔ نکلنا خلدسے آدم کا سنتے آئے تھے ؍لیکن
(بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے (غالب
اس شعر میں بھی پرانے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جب آدمؑ جنت سے ذمین پر بھیج دیے گئے تھے۔
جب شعر میں کسی پرانے واقعےیا روایت کی طرف اشارہ کیا جائےـ
مثال۱ : کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
(بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا ( غالب
اس شعر میں نمرود کی طرف اشارہ ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا ۔
مثال ۲۔ نکلنا خلدسے آدم کا سنتے آئے تھے ؍لیکن
(بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے (غالب
اس شعر میں بھی پرانے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جب آدمؑ جنت سے ذمین پر بھیج دیے گئے تھے۔
دوسری مثالیں۔
مثل نمرود ہر اک شخص خدائی مانگے ●
دل وہ پاگل ہے کہ خلقت کی بھلائی مانگے
نسل در نسل یوں ہی میرے لہو کا پیاسا●
نار نمرود بھی وہ نخوت فرعون بھی وہ
قطرہ ہوں مگر رونق صحرا ہوں برا ہوں●
مظلوم کے زخموں کا مسیحا ہوں برا ہوں
وہ بیعت فرعون کے قائل ہیں سو اچھے ●
میں وقت کے نمرود سے الجھا ہوں برا ہوں
زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزا شیریں●
سبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے
گور مجنوں پہ جو لیلہ نے کہا کیا حال ہے●
قبر سے آئی صدا پردہ اٹھا کر دیکھ لو
موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا ●
اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■